بجلی جائے تو کنٹرول شیڈ چند منٹ میں خطرناک ہو سکتا ہے، اور گرم دن میں اوپن شیڈ ایک گھنٹے میں۔ اس کا جواب قسمت نہیں، پلان ہے: پتا ہو کہ پہلے کیا رکتا ہے، ایسا جنریٹر ہو جو خود چلے اور اصل لوڈ اٹھا سکے، اسے ہر ہفتے ٹیسٹ کریں، اور ہر کارکن کو پتا ہو کہ پہلے پانچ منٹ میں کیا کرنا ہے۔ یہ پوسٹ گرمی اور سردی دونوں کے لیے یہی سب بتاتی ہے۔
پہلے کیا رکتا ہے
| کیا رکتا ہے | کنٹرول شیڈ | اوپن شیڈ |
|---|---|---|
| ایگزاسٹ پنکھے | ہوا رک جاتی ہے، گرمی اور گیس تیزی سے جمع | پردے کھلے ہوں تو کم مسئلہ |
| کولنگ پیڈ کے پمپ | پیڈ سوکھ جاتے ہیں، ٹھنڈک ختم | زیادہ تر اوپن شیڈ میں نہیں ہوتے |
| پانی کی موٹر | لائنیں گھنٹوں میں خالی، گرمی میں اور جلدی | وہی |
| کنٹرولر اور الارم | بیٹری بیک اپ نہ ہو تو کوئی خبر نہیں | عموماً ہوتا ہی نہیں |
| لائٹیں | اندھیرے میں پرندے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں | رات کو یہی |
| بجلی والے اسپارک یا بلوئر والے گیس ہیٹر | سردی میں گرمی بند | وہی، اگر لگے ہوں |
بند شیڈ میں پہلا مسئلہ ہوا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹینیسی ایکسٹینشن کے مطابق پوری طرح بند کنٹرول شیڈ میں گرم موسم میں بجلی جانے سے 15 منٹ سے کم میں تباہ کن نقصان ہو سکتا ہے۔ بیچنے کے وزن کے قریب بھاری پرندے بہت جسمانی گرمی چھوڑتے ہیں، اور پنکھوں کے بغیر یہ گرمی کہیں نہیں جاتی۔
کنٹرول شیڈ پنکھوں پر اتنا منحصر کیوں ہے، یہ کنٹرول اور اوپن شیڈ میں وینٹیلیشن میں پڑھیں۔
گرمی: سب سے خطرناک وقت
مئی سے اگست، جب باہر 40 سے 45 ڈگری ہو، جنریٹر بیک اپ نہیں رہتا۔ یہ شیڈ کی سانس ہے۔
پہلے پانچ منٹ میں
- دیکھیں کہ جنریٹر چل گیا اور پنکھے چل رہے ہیں۔ نہیں تو ہاتھ سے اسٹارٹ کریں۔
- اگر کنٹرول شیڈ میں جنریٹر نہ چلے تو فوراً ہر دروازہ اور سائیڈ پردہ کھولیں، چاہے شیڈ بند رہنے کے لیے بنا ہو۔ تھوڑی ہوا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے۔
- اگر شیڈ مشکل میں ہو تو سب سے گرم گھنٹوں میں دانہ روک دیں، دانہ ہضم کرنے سے جسم میں اور گرمی بنتی ہے۔
- شیڈ میں چلیں۔ دیواروں یا کونوں میں ایک دوسرے پر چڑھے پرندوں کو آرام سے ہٹائیں۔
- یقینی بنائیں کہ ہر لائن کے آخری سرے تک پانی جا رہا ہے۔
گرمی شروع ہونے سے پہلے
- جنریٹر کی سروس: تیل، فلٹر، بیٹری، کولنٹ، بیلٹ۔
- ڈیزل کی ٹینکی بھریں اور ریزرو رکھیں۔ آدھی ہو تو بھروائیں، خالی ہونے کا انتظار نہ کریں۔
- دیکھیں کہ اوپر والی ٹینکی میں گرمی کے کئی گھنٹوں کا پانی ہو، تاکہ بجلی جانے کا مطلب پانی بند نہ ہو۔ عمر کے حساب سے پانی پانی کا معیار میں دیکھیں۔
- گرمی کے دباؤ کا پلان پڑھیں اور عملے سے طے کریں کہ گرم دوپہر میں کون کیا کرے گا۔
سردی: کم شور، مگر خطرہ باقی
دسمبر جنوری کی دھند میں بجلی لمبی جاتی ہے اور راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ خطرے بدل جاتے ہیں:
- پنکھے رک جاتے ہیں مگر گیس ہیٹر جلتے رہتے ہیں۔ بند شیڈ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نمی جمع ہوتی ہے، اور ہیٹر ٹھیک نہ جلیں تو کاربن مونو آکسائیڈ بھی۔ ہوا کی تھوڑی جگہ کھلی رکھیں۔
- بجلی والے اسپارک یا بلوئر کے ہیٹر رک جاتے ہیں اور چوزے جلدی ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ بروڈنگ کے لیے بغیر بجلی کی گرمی کا متبادل رکھیں۔
- پانی کی موٹر رک جاتی ہے۔ بجلی جانے کے عام وقت سے پہلے ٹینکیاں پوری بھر لیں۔
- لائٹیں بجھتی ہیں اور چھوٹے چوزے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی بیٹری لائٹ انہیں پھیلا رہنے میں مدد دیتی ہے۔
جنریٹر کا انتخاب اور سائز
ہر فارم کے لیے ایک سائز نہیں۔ جنریٹر کو وہ سب اٹھانا ہے جو بجلی جانے پر ایک ساتھ چلنا ضروری ہے۔
لوڈ جمع کریں
ہر وہ مشین لکھیں جو چلنی ضروری ہے:
- ایگزاسٹ پنکھے (گرمیوں کی پوری سیٹنگ پر کتنے)
- کولنگ پیڈ کے پمپ
- پانی کی موٹر
- کنٹرولر، الارم، لائٹیں
- فیڈر موٹر، اگر خودکار ہو
ہر ایک کی نیم پلیٹ سے چلنے والی پاور لکھیں۔ یونیورسٹی آف کینٹکی ایکسٹینشن نے امریکی برائلر شیڈوں میں زیادہ سے زیادہ لوڈ تقریباً 10 سے 15 کلو واٹ فی شیڈ ناپا، آپ کا شیڈ چھوٹا یا بڑا ہو سکتا ہے، اس لیے اپنی فہرست استعمال کریں۔
اسٹارٹنگ کرنٹ کا حساب
بجلی کی موٹر اسٹارٹ ہوتے وقت لمحے بھر کے لیے عام سے کئی گنا کرنٹ لیتی ہے۔ اگر سب پنکھے ایک ساتھ چلیں تو چلنے والے لوڈ کے لیے کافی جنریٹر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ دو حل:
- چلنے والے لوڈ سے کافی زیادہ گنجائش والا جنریٹر لیں۔ ماہر الیکٹریشن یہ حساب کر سکتا ہے۔
- پنکھے چند سیکنڈ کے وقفے سے ایک ایک کر کے چلائیں۔ بہت سے کنٹرولر یہ کر سکتے ہیں۔
خودکار سسٹم اس کے قابل ہے
آٹومیٹک ٹرانسفر سوئچ (اے ٹی ایس) دن ہو یا رات، کسی کارکن کا انتظار کیے بغیر ایک منٹ کے اندر جنریٹر چلا کر شیڈ کو اس پر لے آتا ہے۔ کنٹرول شیڈ کے لیے یہ بہترین خرچوں میں سے ایک ہے۔ کنٹرولر اور الارم کے لیے بیٹری یا یو پی ایس رکھیں تاکہ سوئچ ہوتے وقت بھی کام کریں۔
ہر ہفتے ٹیسٹ کریں
مسیسیپی اسٹیٹ یونیورسٹی ایکسٹینشن کے مطابق ہر سال جنریٹر کی ایسی خرابیوں سے پرندے مرتے ہیں جو روکی جا سکتی تھیں: ڈیزل ختم، بیٹری ڈیڈ، کمزور سیلف یا بند فلٹر۔ ان کا مشورہ:
- ہفتے میں ایک بار 30 سے 60 منٹ جنریٹر چلائیں، شیڈ کا لوڈ ڈال کر، خالی نہیں۔
- اسٹارٹ ہوتے سنیں۔ آہستہ یا جھٹکے والا اسٹارٹ پہلی وارننگ ہے۔
- ڈیزل چیک کریں اور آدھی ٹینکی پر بھروائیں۔
- بیٹری پرانی ہونے سے کافی پہلے بدلیں، مرنے کا انتظار نہ کریں۔
- سال میں کم از کم ایک بار تیل بدلیں، زیادہ گھنٹے چلے تو اور جلدی۔
- فالتو فیول فلٹر اور مستری کا فون نمبر دیوار پر رکھیں۔
سولر اور بیٹریاں
پاکستان میں زیادہ فارم دن کے لوڈ کے لیے سولر پینل اور کنٹرولر اور لائٹوں کے لیے بیٹریاں لگا رہے ہیں۔ سولر ڈیزل کا خرچ کم کر سکتا ہے، مگر گرمیوں کے کنٹرول شیڈ میں یہ کم ہی جنریٹر کی جگہ لیتا ہے: رات کی لوڈشیڈنگ اور ساون کے بادل والے دنوں میں بیک اپ پھر بھی چاہیے۔ خریدنے سے پہلے انسٹالر سے اپنے پنکھوں کے اصل لوڈ پر بات کریں۔
خرچ کا حساب
لوڈشیڈنگ کا ڈیزل فلاک کا اصل خرچ ہے۔ روزانہ لاگ میں جنریٹر کے گھنٹے اور خریدا ہوا ڈیزل لکھیں۔ پولٹری کرو میں آپ دانے اور اموات کے ساتھ جنریٹر کے گھنٹے نوٹ کر سکتے ہیں اور ڈیزل اخراجات میں ڈال سکتے ہیں، تاکہ فلاک کا منافع اصل تصویر دکھائے۔ آخر میں منافع کیلکولیٹر سے دیکھیں کہ بجلی کی بندش نے کتنا خرچ کروایا۔