جب شیڈ کا درجہ حرارت تقریباً 30°C سے اوپر جائے تو برائلر تکلیف میں آنے لگتا ہے، اور 32°C کے بعد اموات کا خطرہ تیزی سے بڑھتا ہے، خاص طور پر آخری دو ہفتوں کی بھاری مرغی میں۔ اس کا حل ایک پلان ہے جو ہر گرم دن ایک ہی طرح چلے: ٹھنڈا پانی ہر وقت، مرغیوں پر جتنی ہو سکے ہوا، بڑی مرغی کے لیے سب سے گرم گھنٹوں میں دانہ بند، اور دوپہر میں فلاک کو کوئی نہ چھیڑے۔
گرمی برائلر کو اتنا نقصان کیوں دیتی ہے
مرغی کو پسینہ نہیں آتا۔ وہ ہانپ کر، پر جسم سے دور کر کے، اور جلد پر چلتی ہوا سے گرمی نکالتی ہے۔ آج کا برائلر بہت تیزی سے بڑھتا ہے اس لیے اس کا جسم خود بھی بہت گرمی بناتا ہے۔ جون میں 40°C والے اوپن شیڈ میں 2 کلو کی مرغی ایک ساتھ دھوپ، چھت، بچھائی (لِٹر) اور اپنے جسم کی گرمی سے لڑ رہی ہوتی ہے۔
حبس اسے اور مشکل بنا دیتا ہے۔ ہانپنے سے سانس کی نالی کی نمی سوکھتی ہے اور گرمی نکلتی ہے۔ جب ہوا پہلے ہی نم ہو، جیسے ساون میں، تو ہانپنے سے کم ٹھنڈک ملتی ہے۔ حبس والا 34°C کا شیڈ خشک 38°C سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
گرمی کے دباؤ کی نشانیاں
دوپہر سے پہلے اور پھر سب سے گرم وقت پر شیڈ کا چکر لگائیں اور دیکھیں:
- شروع میں: مرغیاں چونچ کھول کر ہانپ رہی ہیں، پر جسم سے دور، دانہ کم اور پانی زیادہ۔
- درمیان میں: مرغیاں ٹانگیں پھیلا کر زمین پر لیٹی ہیں، دیواروں کے ساتھ، پنکھوں کے نیچے یا پانی کے پاس جمع ہیں، بیٹ پتلی ہے۔
- خطرناک: مرغیاں اٹھ نہیں رہیں، سر نیچے، آنکھیں آدھی بند، بہت تیز اور ہلکی سانس۔ اموات اکثر سب سے بھاری مرغیوں سے شروع ہوتی ہیں۔
گرم دن کا گھنٹہ وار پلان
ہر گرم دن یہی پلان چلائیں اور مزدوروں کے لیے دیوار پر لکھ دیں۔
| وقت | کیا کرنا ہے |
|---|---|
| صبح سویرے (4 سے 7 بجے) | ٹھنڈے وقت میں دانہ کھلائیں۔ پنکھے، پیڈ اور جنریٹر چیک کریں۔ پانی کی لائنیں فلش کریں۔ |
| صبح (8 سے 10 بجے) | بڑی مرغی کے لیے دانہ اٹھا لیں یا فیڈر اوپر کر دیں۔ گرمی بڑھے تو پیڈ یا فوگر چلائیں۔ |
| سب سے گرم وقت (11 سے 5 بجے) | صرف پانی۔ ہوا چلتی رہے۔ ہر گھنٹے آہستہ سے شیڈ میں چلیں تاکہ مرغیاں اٹھ کر پانی پئیں۔ مردہ مرغی نکالیں۔ |
| شام (6 بجے کے بعد) | شیڈ ٹھنڈا ہو تو دانہ واپس دیں۔ چھت گرم ہو تو رات تک پنکھے چلتے رہیں۔ |
دوپہر میں مرغی پکڑنا، تولنا، ویکسین کرنا یا جگہ بدلنا نہیں۔ یہ سب کام صبح سویرے یا رات کو کریں۔
پانی: پہلا بچاؤ
عام موسم میں برائلر وزن کے حساب سے دانے سے تقریباً دگنا پانی پیتا ہے، گرمی میں اس سے بھی کہیں زیادہ۔ جون میں اگر ایک گھنٹہ بھی پانی کم ہو جائے تو اموات میں نظر آئے گا۔
- پانی ٹھنڈا رکھیں۔ چھت پر رکھی ٹنکی کا پانی 35°C سے اوپر جا سکتا ہے۔ ٹنکی کو سایہ دیں، پائپ ڈھانپیں، اور گرم گھنٹوں میں لائنیں فلش کریں تاکہ تازہ پانی مرغی تک پہنچے۔
- ہر نپل لائن اور ڈرنکر چیک کریں۔ گرمیوں میں اضافی ڈرنکر لگائیں تاکہ کمزور مرغی کو دور نہ جانا پڑے۔
- گرمی میں پانی میں الیکٹرولائٹ اور وٹامن سی عام استعمال ہوتے ہیں۔ کون سی چیز اور کتنی، یہ اپنے ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ سے پوچھیں، اور کئی چیزیں ایک ساتھ نہ ملائیں۔
ہوا کی رفتار، پنکھے اور کولنگ پیڈ
مرغیوں کے اوپر سے چلتی ہوا گرمی نکالتی ہے، چاہے ہوا خود گرم ہو۔ بڑی مرغی کے لیے یہ سب سے طاقتور طریقہ ہے۔
- اوپن شیڈ: سایہ والی طرف کے پردے پورے کھولیں، پنکھوں سے ہوا شیڈ کی لمبائی میں چلائیں، اور مرغی کی اونچائی پر ہوا کا راستہ کوئی چیز نہ روکے۔ گرمی سے پہلے چھت پر سفیدی یا انسولیشن کریں، گرم چھت سیدھی مرغیوں پر گرمی پھینکتی ہے۔
- کنٹرول شیڈ (ٹنل): سب سے گرم وقت میں سارے پنکھے اور پیڈ چلائیں۔ پیڈ صاف ہوں اور ہر جگہ برابر گیلے ہوں۔ ہوا صرف پیڈ سے اندر آئے، دراڑوں سے نہیں۔
- فوگر: خشک گرمی میں اچھے ہیں۔ بچھائی گیلی ہونے لگے یا حبس محسوس ہو تو کم یا بند کر دیں۔
پیڈ اور فوگر ہوا میں نمی ڈالتے ہیں۔ مئی جون کی خشک گرمی میں یہ شیڈ کو کئی ڈگری ٹھنڈا کر سکتے ہیں، مگر جولائی اگست کے حبس میں بہت کم۔ اس وقت صرف ان پر بھروسہ نہ کریں، ہوا کی رفتار زیادہ اہم ہے۔ تفصیل کے لیے کنٹرول شیڈ اور اوپن شیڈ میں ہوا کا انتظام پڑھیں۔
گرم دن میں دانے کا وقت
دانہ ہضم کرنے سے جسم میں گرمی بنتی ہے۔ تقریباً تین ہفتے سے بڑی مرغی کے لیے بہت سے فارم دن کے سب سے گرم حصے میں 6 سے 8 گھنٹے دانہ اٹھا لیتے ہیں، پھر شام، رات اور صبح سویرے دانہ دیتے ہیں۔ پانی سارا وقت چلتا رہے۔
اس کا مطلب پورے فلاک کا دانہ کم کرنا نہیں۔ ٹھنڈے وقت میں مرغی زیادہ کھا لیتی ہے۔ چھوٹے چوزوں سے دانہ نہ روکیں۔ اپنے فلاک کے اوقات پر شک ہو تو ڈاکٹر یا فیڈ نیوٹریشنسٹ سے پوچھیں۔
گرمی سے پہلے کی تیاری
ہیٹ ویو کی زیادہ تر اموات اس کے آنے سے پہلے ہی طے ہو جاتی ہیں۔
- مرغی کم ڈالیں۔ گرمیوں میں فی مربع فٹ کم مرغی کا مطلب شیڈ میں کم گرمی۔ دیکھیں موسم کے حساب سے برائلر کی تعداد۔
- لوڈ شیڈنگ کی تیاری۔ جون میں دوپہر 2 بجے پنکھا رکنے سے بھاری مرغی ایک گھنٹے میں مر سکتی ہے۔ جنریٹر چیک کریں، ڈیزل رکھیں، اور طے کریں کہ اسے کون چلائے گا۔ پڑھیں لوڈ شیڈنگ اور جنریٹر پلان۔
- چھت اور دیواریں۔ چھت پر سفیدی، چھپر یا انسولیشن، دھوپ والی طرف شیڈ نیٹ، اور شیڈ کے پاس درخت یا سایہ۔
- بیچنے کی تاریخ سوچیں۔ جون کی ہیٹ ویو میں بھاری مرغی سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ کچھ دن پہلے بیچنا بہتر ہو سکتا ہے، حساب منافع کیلکولیٹر میں لگا لیں۔
ہیٹ ویو کے بعد
شیڈ ٹھنڈا ہو تو فلاک کو دیکھیں۔ مردہ مرغی گنیں اور نکالیں، گیلی یا جمی ہوئی بچھائی دیکھیں، اور اگلے دو دن دانے کی کھپت پر نظر رکھیں۔ گرمی سے گزری مرغی بیماری کے مقابلے میں کمزور ہو سکتی ہے، اس لیے سانس کی تکلیف، عجیب بیٹ یا نہ رکنے والی اموات پر ڈاکٹر کو بلائیں۔ ہیٹ ویو والے فلاک کا FCR اکثر خراب آتا ہے، اس لیے ہیٹ ویو کی تاریخیں فلاک کے ریکارڈ کے ساتھ لکھ لیں۔
Poultry Curve میں روز شیڈ کا درجہ حرارت، پانی اور اموات لکھنے سے آپ گرمیوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کس دن بات بگڑی۔ برے دن میں سمجھ نہ آئے تو ایپ کے اسسٹنٹ Helper سے پوچھیں، اور اموات نہ رکیں تو ہمیشہ ڈاکٹر کو بلائیں۔