نیو کیسل بیماری، جسے پاکستان میں رانی کھیت کہتے ہیں، تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو چند دنوں میں برائلر فلاک کا بڑا حصہ مار سکتا ہے۔ اگر سانس کی تکلیف، سبز بیٹ یا مڑی گردن کے ساتھ اچانک اموات نظر آئیں تو اسے ایمرجنسی سمجھیں: ڈاکٹر کو فون کریں، مرغیاں لیبارٹری بھیجیں، فارم کا گیٹ بند کریں، اور جب تک پتا نہ چلے بیمار یا مردہ مرغی نہ بیچیں نہ پھینکیں۔
رانی کھیت کیا ہے
یہ بیماری ایک وائرس سے ہوتی ہے۔ اس کی کئی قسمیں ہیں: ہلکی قسم صرف کھانسی کرتی ہے، خطرناک قسم سانس، معدے اور اعصاب پر ایک ساتھ حملہ کرتی ہے۔ عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت (WOAH) اس کی خطرناک قسم کو ان بیماریوں میں رکھتا ہے جن کی رپورٹ لازمی ہے، کیونکہ یہ پورے فلاک ختم کر سکتی ہے۔
پاکستان میں یہ برائلر کی سب سے عام اور مہنگی بیماریوں میں سے ہے، اور اکثر ٹھنڈے مہینوں میں زیادہ آتی ہے جب وائرس مرغی کے باہر زیادہ دیر زندہ رہتا ہے۔ صبح ٹھیک نظر آنے والا فلاک شام تک مرغی کھونے لگتا ہے۔
کن نشانیوں پر نظر رکھیں
نشانیاں عموماً وائرس فارم پر پہنچنے کے 2 سے 12 دن بعد آتی ہیں۔ ہر مرغی میں ہر نشانی نہیں ہوتی۔
- اچانک اموات جو روز بڑھتی ہیں، شروع میں کبھی کوئی اور نشانی نہیں ہوتی۔
- سانس: ہانپنا، کھانسی، چھینک، رات کو خاموش شیڈ میں سانس کی کھڑکھڑاہٹ۔
- بیٹ: سبز، پتلی، کبھی سفیدی کے ساتھ۔
- اعصابی نشانیاں: گردن مڑنا، سر پیچھے کھنچنا، چکر کاٹنا، کانپنا، ایک ٹانگ یا پر کا فالج۔ یہ اکثر پہلی اموات کے کچھ دن بعد آتی ہیں۔
- عام: مرغیاں سست بیٹھی، پر پھولے ہوئے، دانہ پانی کم۔
ڈاکٹر مردہ مرغی کھولے تو آنتوں اور معدے میں خون کے دھبے رانی کھیت کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، مگر پکا صرف لیبارٹری ٹیسٹ بتاتا ہے۔
یہ فارم سے فارم کیسے پھیلتی ہے
وائرس بیمار مرغی کی بیٹ اور سانس سے نکلتا ہے اور جو چیز انہیں چھوئے اس پر لگ جاتا ہے:
- لوگ: مزدوروں، مہمانوں، ویکسینیٹر، پکڑنے والوں اور خریداروں کے جوتے، کپڑے اور ہاتھ جو ایک فارم سے دوسرے جاتے ہیں۔
- گاڑیاں اور کریٹ: بیوپاری کے ٹرک، فیڈ کی گاڑی، دوسرے فارم کے کریٹ اور ٹرے۔
- سامان: ہمسائے سے ادھار لیے فیڈر، ڈرنکر یا بوریاں۔
- پرندے: شیڈ کے آس پاس جنگلی پرندے اور کبوتر، اور فارم کے پاس دیسی مرغیاں۔
- مردہ مرغی: نہر یا کھیت میں پھینکی گئی مرغی جسے کتے، کوے اور لوگ آگے لے جاتے ہیں۔
وائرس بچھائی اور مٹی میں ہفتوں زندہ رہ سکتا ہے، خاص طور پر ٹھنڈے موسم میں۔ اسی لیے علاقے میں ایک فارم پر آنے کے بعد اکثر دوسرے فارموں پر بھی آتی ہے۔
ویکسین کی بنیادی باتیں
تقریباً ہر ملک میں ویکسین ہی اصل بچاؤ ہے۔ دو قسمیں استعمال ہوتی ہیں:
- زندہ ویکسین جو آنکھ یا ناک کے قطرے، پینے کے پانی یا سپرے سے دی جاتی ہے۔ یہ جلدی تحفظ دیتی ہے۔
- مردہ (کِلڈ) ویکسین جو ٹیکے سے لگتی ہے۔ یہ لمبا تحفظ دیتی ہے اور اکثر زندہ ویکسین کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔
کون سی ویکسین، کس دن اور کس طریقے سے، یہ چوزے کی ماں سے ملی قوت مدافعت، علاقے میں بیماری کے زور اور ہیچری نے جو دیا ہے اس پر منحصر ہے۔ پلان اپنے ڈاکٹر کے ساتھ بنائیں۔ ہماری برائلر ویکسین شیڈول گائیڈ بتاتی ہے کہ کون سے سوال پوچھیں اور ویکسین ٹھنڈی کیسے رکھیں۔
ویکسین تب ہی کام کرتی ہے جب صحیح سنبھالی جائے:
- دکان سے شیڈ تک 2 سے 8°C پر رکھیں۔ جون میں گرم گاڑی یا موٹر سائیکل کے تھیلے میں پڑی ویکسین مرغی تک پہنچنے سے پہلے مر سکتی ہے۔
- پانی والی ویکسین میں کلورین والا پانی نہ لیں۔ کون سا سٹیبلائزر استعمال کریں، یہ ڈاکٹر بتائے گا۔
- ہر مرغی کو حصہ ملے: کافی ڈرنکر، مرغی تھوڑی پیاسی، اور ویکسین والا سارا پانی تقریباً 1 سے 2 گھنٹے میں پی لیا جائے۔
- ہر ویکسین کی تاریخ، نام، بیچ نمبر اور طریقہ لکھیں۔
شک ہوتے ہی کیا کریں
پہلے گھنٹے سب سے اہم ہیں۔ یہ کام ترتیب سے کریں:
- ڈاکٹر کو فون کریں اور نشانیاں اور روزانہ اموات بتائیں۔ پنجاب میں لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ محکمے کی ہیلپ لائن یا قریبی سرکاری جانوروں کے ہسپتال سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
- ٹیسٹ کے لیے مرغی بھیجیں۔ تازہ مردہ اور چند بیمار مرغیاں بند تھیلے میں، ڈاکٹر کے ذریعے یا ضلعی تشخیصی لیبارٹری یا UVAS جیسی یونیورسٹی لیبارٹری میں۔
- گیٹ بند کریں۔ کوئی مہمان نہیں، بیوپاری اندر نہیں، سامان کا لین دین نہیں۔ مزدور اسی فارم پر رہیں اور دوسرے شیڈ نہ جائیں۔
- الگ کریں۔ ایک سے زیادہ شیڈ ہوں تو الگ مزدور رکھیں یا بیمار شیڈ میں سب سے آخر میں اپنے جوتوں کے ساتھ جائیں۔
- مردہ مرغی ٹھیک سے ٹھکانے لگائیں۔ دن میں کئی بار اکٹھی کریں، بند برتن میں رکھیں، اور فارم پر چونے کے ساتھ گہرا دفنائیں یا جلائیں۔ نہر میں کبھی نہ پھینکیں، نہ بیچیں۔
- اپنی مرضی سے دوائیں شروع نہ کریں۔ اینٹی بائیوٹک وائرس کو نہیں مارتی۔ صرف وہی دیں جو ڈاکٹر ساتھ والے انفیکشن کے لیے بتائے۔ بیمار فلاک کو کوئی ویکسین دینے سے پہلے ڈاکٹر سے پوچھیں۔
- ریکارڈ رکھیں۔ روزانہ اموات، دانہ اور پانی، اور ڈاکٹر کی ہدایات۔
اگر لیبارٹری رانی کھیت کی تصدیق کرے تو ڈاکٹر باقی فلاک کی دیکھ بھال، بیچنے اور شیڈ کی صفائی کا بتائے گا۔ فلاک کے بعد اچھی طرح صفائی اور جراثیم کشی کریں اور اگلے چوزوں سے پہلے شیڈ خالی چھوڑیں۔
ہر فلاک میں کام آنے والا بچاؤ
- مضبوط گیٹ: ایک راستہ، تازہ جراثیم کش والا فٹ ڈپ، اندر آنے والے کے لیے فارم کے جوتے اور کپڑے۔
- دیسی مرغی، کبوتر یا دوسرے فارم کے پرندوں سے کوئی واسطہ نہیں۔
- صاف کریٹ اور گاڑیاں، اور بیوپاری کا ٹرک شیڈ کے دروازے سے دور۔
- آل اِن آل آؤٹ: فارم پر ایک عمر کی مرغی، فلاکوں کے بیچ پوری صفائی اور آرام کا وقت۔
- ڈاکٹر کے ساتھ بنا ویکسین پلان، اور اس پر پورا عمل۔
گیٹ کے اصول، مہمان اور مردہ مرغی کے بارے میں برڈ فلو، H9 اور فارم بائیو سیکیورٹی پڑھیں۔ ہفتہ وار کتنی اموات عام ہیں اور کب فکر کریں، یہ برائلر کی اموات کم کرنا میں دیکھیں۔
Poultry Curve میں روزانہ اموات اور ہر ویکسین لکھنے سے ڈاکٹر کو منٹوں میں پوری تصویر مل جاتی ہے، آپ کو یاد کرنا نہیں پڑتا۔ ڈاکٹر کے آنے سے پہلے جو دیکھا ہے اسے ترتیب دینے میں Helper مدد کر سکتا ہے، مگر تشخیص ہمیشہ ڈاکٹر اور لیبارٹری ہی کرتے ہیں۔